صدر مملکت منگل کے روز تہران سے شنگھائي کے ليے روانہ ہوگئے تھے اور آج (بدھ کو) اجلاس ميں خطاب کريں گے۔
"سي آئي سي اے" تنظيم کا سربراہي اجلاس ہر 4 سال ميں ايک بار ہوتا ہے جبکہ وزراء خارجہ کا اجلاس 2 سال ميں ايک بار ہوتا ہے۔ ايشيائي ممالک کے باہمي تعاون کو فروغ دينے کے سلسلے ميں 1992 ميں سي آئي سي اے تنظيم کي تشکيل کي تجويز قزاقستان کے صدر کي طرف سے پيش ہوئي جبکہ سرکاري طور پر اس کي 1996 ميں تشکيل ہوئي-
سي آئي سي اے کا پہلا اور دوسرا سربراہي اجلاس 2002 اور 2006 ميں قزاقستان کے دارالحکومت آلماتي ميں ہوا، جبکہ تيسرا اجلاس استنبول ميں منعقد ہوا اور چوتھا اجلاس اب چين ميں منعقد ہورہا ہے۔
سي آئي سي اے ايک کثير الملکي تنظيم ہے، جس کا مقصد ايشيا ميں تعاون ميں اضافہ اور امن و سلامتي کي صورت حال کو مستحکم بنانا ہے۔ اس اجلاس ميں روسي صدر ولاديمير پوتن اور اقوام متحدہ کے سکريٹري جنرل بان کي مون بھي شرکت کر رہے ہيں۔ سي آئي سي اے کا چوتھا اجلاس 20 اور 21 مئي کو شنگھائي ميں منعقد ہوگا-
ايران کے صدرمملکت چين کے اپنے ہم منصب کے علاوہ دوسرے اعلي عہديداروں سے بھي ملاقاتيں کريں گے- اس اجلاس کے دوران ديگر ممالک کے سربراہوں نے بھي صدر روحاني سے ملاقات کي خواہش ظاہر کي ہے۔ بدھ کو صدر روحاني چين ميں مقيم ايراني شہريوں سے ملاقات کريں گے
اس تنظم کے رکن ممالک افغانستان، بحرين، کمبوڈيا، مصر، چين، ہندوستان، ايران، عراق، اردن ، قزاقستان ، قرقيزستان، منگوليا، پاکستان ، جنوبي کوريا، روس ، تاجکستان ، تھائي لينڈ ، ترکي ، متحدہ عرب امارات اور ويتنام ہيں-
ايراني صدر اس اجلاس ميں چين کے صدر، روس کے صدر ولاديمير پوتين اور ديگر رہنماؤں کے ساتھ اہم عالمي اور علاقائي امور پر تبادلہ خيال کريں گے۔ وزير خرجہ جواد ظريف، پيٹروليم کے وزير زنگنہ اور بعض ديگر اعلي حکام اس سفر ميں صدر حسن روحاني کي ہمراہي کررہے ہيں۔
21 مئی 2014 - 06:45
News ID: 610189
اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر ڈاکٹر حسن روحاني ايشيا ميں رابطے اور اعتماد سازي کے اقدامات کے موضوع (سي آئي سي اے) پر منعقد ہونے والے چوتھے اجلاس ميں شرکت کرنے کے ليے چين پہنچ گئے اور پہنچتے ہي چين کے اعلي عہدہ داروں کي طرف سے ان کا استقبال کيا گيا-